تحریر:سائرہ نقوی
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بعثتِ نبوی تاریخِ انسانی کاسب سےعظیم اور اعلی انسانی اقدارکے وجود میں آنے کادن ہے۔اس روز پیامبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی تحریک کا آغازکیا، جس کا ہدف بشریت کومعنوی وروحانی اعتبارسےمنزلِ کمال تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کو بہتر بنانا تھا۔ اہلِ عرب کی جہالت کواس ہدف کی وجہ سےبھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ یہی بعثتِ نبوی کی اہم ترین خصوصیت ہے۔بعثتِ نبوی یعنی بعدازاسلام کے دور میں پیامبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محض وحی الہی کو لوگوں تک پہنچانے یا اس کےمضامین کی نشاندہی کرنے کا کام نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے مومنین نے معاشرہ کی اخلاقی تربیت کا فریضہ بھی انجام دیا۔ پیامبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقامِ تعلیم وتربیت میں جو چیز بھی لوگوں کو بطور ہدیہ عطاکی، پہلے اپنےعمل وکردار سےاُس کا مظاہرہ کیا۔ یہی تمام انبیاء علیہم السلام کی روش تھی۔انہوں نے زبان سے جونعرہ لگایا، پہلےخود اُس پرعمل کیا۔ اس روش کے تناظر میں ہم بعثتِ نبو ی کے اہداف کا مختصرجائزہ لیں گے۔
١۔تزکیہ نفس
تزکیہ نفس بعثتِ نبوی کاوہ بنیادی ہدف ہےجس کاذکرقرآن مجیدنےخصوصی طورپرکیاہے۔ جب حضرت ابراہیم واسماعیل علیہم السلام خانہ خداکی تعمیرمیں مصروف تھےتوانہوں نےاپنی دعامیں فرمایا:
"پروردگار !اُن کے درمیان ایک رسول کو مبعوث فرما جو اُن کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے۔
انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور اُن کے نفوس کو پاکیزہ بنائے۔بے شک تو صاحبِ عزّت اور صاحبِ حکمت ہے۔ " (١)
یہ آیت اس بات پردلالت کرتی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےوجودمیں کتاب وحکمت کاعلم اعلی درجہ پرتھااورآپ کاوجودِاطہرطبیعتِ بشری میں ممکنہ حدتک کمال اورتزکیہ سےمالامال تھا۔خداوندمتعال بھی اپنےبندوں کےتزکیہ نفس کاخواہش مندہے۔فرماتاہے:
"خدا تمہارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا،بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ بنا دے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے شاید تم اس طرح اس کے شکر گزار بندے بن جاؤ۔" (٢)
یقیناوہ نعمتِ عظیم خاتم الانبیاءوسیدالمرسلین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اطہرہےجنہوں نےلوگوں کو حکمت کی تعلیم دینے اوران کے تزکیہ و تطہیرکی ذمہ داری انجام دی۔ امام مہدی علیہ السلام سےروایت ہے:
"اللہ تعالی نےمحمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوعالمین کےلئےرحمت بناکربھیجااورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےذریعہ سےاپنی نعمت تمام کی۔"(٣)
٢۔ذکرِخدا
بعثت کاواقعہ رونماہواتواس کاایک اورہدف بالکل واضح تھا۔ یہ کہ انسان کوروحانی اورباطنی طورپرہمیشہ خداکی طرف متوجہ کرنا۔یہ ہدف دراصل رسولِ خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سےبشریت کےلئےایک قیمتی ہدیہ تھاجس کی بدولت انسان پراصلاح وتعمیرکےدروازےواہوگئے۔اگرہم مادی دنیاکامشاہدہ کریں توخداکےذکرکوہی اصلاحات اورسعادتوں کی کنجی قراردیاجاسکتاہے۔تمام شہوات،طاقت ،مال ودولت اوردیگرمادی ظواہرکےپیچھےجواٹل حقیقت پوشیدہ ہے،وہ یہی تذکرہے۔ اسی کوخدانےسکون کاباعث قراردیاہے۔خداتعالی کافرمان ہے:
"آگاہ ہوجاؤکہ اطمینان تو یادِخداسےہی حاصل ہوتاہے۔" (٤)
٣۔مکارمِ اخلاق کی تکمیل
بعثتِ نبوی کاایک اوراہم ہدف مکارمِ اخلاق کی تکمیل بھی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا:
"میں اسی لئےبھیجاگیاہوں تاکہ انسانی اخلاقیات کوپایہ تکمیل تک پہنچاؤں۔" (٥)
٤۔عدل وانصاف پرمبنی معاشرےکاقیام
وہ ہدف کہ جسےرسولِ خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےابتداسےہی اپنی توجہ کامرکزقراردیا،انسانی زندگی کےگزربسرکےلوازمات کی فراہمی کےلئےایک صاف ستھراماحول تھا۔ایساماحول جہاں طاقتوروں کےلئےکمزورکواپنےظلم کانشانہ بنانےکی کوئی گنجائش نہ ہو۔آپ نےایسےہی عادلانہ نظام کی بنیادرکھی۔
درحقیقت بعثتِ نبوی بشریت کی تاریخ کےایک نئےدورکاآغازتھی ۔گوکہ بعثت کاتئیس سالہ عرصہ بہت طویل نہ تھالیکن اس نےانسانیت کوترقی کی راہ پرگامزن کیااوراخلاقی بنیادکواستحکام بخشا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامیاب معاشرہ کی کوشش کےدرپردہ خداکی ذات پرتوکل،عقل ودانائی،بہترین اخلاق وکرداراورحق کی پیروی ودفاع جیسےاہم عوامل کارفرماتھے۔اگرچہ فتح حق کی ہی ہوتی ہےلیکن ضروری ہےکہ اس کی راہ میں ثابت قدمی اوراستقامت کامظاہرہ کیاجائے۔امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنےفرزندجناب محمدبن حنفیہ سےفرمایاتھا:"پہاڑاپنی جگہ سےہٹ جائیں لیکن تم اپنی جگہ سےنہ ہٹنا۔" (۶)یہ نصیحت پیامبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنےساتھیوں کوبھی کیاکرتےتھے۔بعثتِ نبوی سےہمیں یہی درس ملتاہے۔
بعثتِ نبوی بشریت کی نجات کاوہ کامل نسخہ ہےجورحمت اللعالمین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےبنی نوع انسان کوعطاکیااورجس پرعنقریب خداکی آخری حجت حضرت ولی العصر عجل اللہ فرجہ الشریف عمل درآمد کرتےہوئےعدل وانصاف پرمبنی ایک اسلامی حکومت قائم کریں گے۔
حوالہ جات:
١۔ البقرۃ:١٢٩
٢۔ المائدۃ:۶
٣۔بحارالانوارج٥٣ص١٩٤
٤۔ الرعد:٢٨
٥۔ بحارالانوارج۶٨ص٣٨٢
۶۔ نہج البلاغہ۔خطبہ١١
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲